قیامِ فاونڈیشن کے بارے میں
About Foundation
انوکھی تجارت، فلاحی و رفاہی کام اور پھر فانڈیشن تک کا سفر
آج میں اپ کو فاؤنڈیشن اور اپنے رفاہی کاموں کے بارے میں بتاتا ہوں۔
زندگی میں ایک موڑ ایسا بھی آیا اور وہ بھی عین جوانی کے وقت جب مالی طور پہ بہت زیادہ تنگی ہو گئی۔ بہت سے انبیاء رسولان کرام علیہ السلام اجمعین اور اولیاء اللہ کے قصے وغیرہ پڑھ چکا تھا اور ان سب سے بہت متاثر تھا۔ اسی میں سے ایک بات کا پتہ چلا کہ جب بھی ایسا ہو جائے تو اپنے رب سے تجارت کر لو۔ یہی میں نے بھی کیا۔ میں نے اپنے رب سے تجارت کی اور عہد باندھا کہ اگر میرا ہاتھ کھلا ہوگا اور مجھے رزق کی فراوانی ہوگئی تو میں اپنی کمائی کو تین یا چار حصوں میں تقسیم کر دوں گا۔ ایک اپنے لیے دوسرا ماں باپ اور بہن بھائیوں رشتہ داروں کے لیے تیسرا اللہ کے لیے اور اگر مزید فراوانی ملی تو چوتھا اپنے پاس محفوظ رکھوں گا اور اس سے بڑی بڑی انویسٹمنٹ والے کام کروں گا۔
پھر یوں ہوا کہ برسوں پہلے میں ملک سے باہر کام کے سلسلے میں چلا گیا۔ بیرون ملک تنخواہ اچھی تھی۔ کاندھوں پہ کچھ قرضہ تھا۔ اٹھ دس مہینے میں وہ اتر گیا۔ اس کے بعد پیسے جمع کرنے شروع کر دیے۔ دسمبر 1996 سے پہلی دفعہ کسی کی مدد کی۔ اپنی کمائی سے اپنے وسائل اپنے ذریعے سے اپنے نام سے کسی کی مدد کرنا اپنی حیثیت میں ایک بہت انفرادی اور بہت بڑا کام تھا۔ یہ کام کر کے بہت سکون ملا۔ اس وقت سے رفاہی کام کرتا ہی گیا جب تک کہ استطاعت رہی۔
آج سے تین چار سال پہلے ایک ایسا وقت ایا کہ پھر سے حالات ضعیف ہو گئے۔ اور مدد، فلاح رفاہی کا کام کرنا بہت مشکل ہو گیا۔کافی غور وخوض کے بعد یہ نتیجہ نکالا گیا کہ اس کار خیر کو اپنے تک محدود نہ رکھا جائے اور اس کے ثمرات دوسرے لوگوں کو شامل کر کے ان افراد تک بھی پہنچائے جائیں۔
کیونکہ ان 30 سالوں کے دوران بہت سارا ریسرچ مٹیریل اکٹھا ہو چکا تھا۔ بہت سی جگہوں پر بہت سے ملکوں میں اپنے قدموں سے چل کے جا کے وہاں پہ چیزیں دیکھ چکا تھا لوگوں سے مل چکا تھا اور بہت سارا مواد تصویریں ویڈیوز اکٹھی کر چکا تھا۔ عمر کے اس حصے میں پہنچنے کے بعد یہ سوچا کہ کیوں نہ اس کو ایک قانونی شکل دے کر باقاعدہ کمپیوٹرئزڈ کر کے اور ہر خاص و عام تک پہنچایا جائے۔
بہترین ذرائع ابلاغ میں پرنٹڈ فارم اور سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ ویب سائٹ کا انعقاد بھی تھا۔ پرنٹڈ فارم میں یا ہارڈ کاپی میں اج کل کتابیں لوگ شاذ ہی پڑھا کرتے ہیں۔ اج کل دور سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا ہے۔ اسی لیے زیادہ توجہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پبلشنگ پہ رکھی گئی۔
